امریش پوری کے ہیرو بننے کے خواب

ہیرو بننے کے خواب دیکھنے والے امریش پوری نے بطور ہیرو اسکرین ٹیسٹ دیا اور ناکام رہے، 1932 میں پنجاب میں پیدا ہونے والے امریش پوری نے شائد کبھی نہی سوچا تھا کہ وہ بالی وڈ کے ٹاپ ولنز میں اپنی    میں بنانے جا رہے ہیں ، تھیٹرز اور چند ایک کرداروں کے بعد انہیں 39 سال کی عمر میں 1971 جگہ “ریشماں اور شیرا “ فلم ملی جس کے بعد انہوں نے پلٹ کر پیچھے نہی دیکھا، دو سو سے زائد فلمز میں کام کیا ،  ) ہندی، پنجابی، تیلگو،تامل اور انگریزی فلمز indiana jones, temple of doom )میں اداکاری کے جوہر دکھائے، انہیں بالی وڈ کی تاریخ کا سب سے بہترین ولن کہا جائے تو غلط نا ہوگا بھاری بھر کم آواز ، قہر برساتی آنکھیں اور بے مثال لب و لہجہ ان کی شخصیت کو مذید رعب دار بنا دیتا تھا۔55 سال کی عمر میں “موگیمبو جیسا مضبوط کردار ادا کیا ،کون بھول سکتا ہے انکا یہ ڈائیلاگ “ موگیمبو خوش ہوا” فلم  دل والے دلہنیا لے جائیں گے” میں کاجول کے باپ کا کردارانہوں نے بے حد خوبصورتی سے نبھایا، “ جا سمرن جا” آج تک کوئ نا بھول پایا۔ گھاتک فلم میں شمبھو ناتھ کے کردار کا وہ سین جب کاتیا گلے میں پٹا ڈالتا ہے ایک یادگار سین تھا جس نے رلا کر رکھ دیا ، غدر کے اشرف علی اور کرن ارجن کا ٹھاکر درجن سنگھ بھلائے نہی بھولتا ۔امریش پوری نے کئ طرح کے کردار کئے اور خود پر محض ولن کی چھاپ نہی لگنے دی مگر اس کے باوجود وہ آج بھی بھارتی سینما کے بہترین ولنز میں شمار ہوتے ہیں۔

نصیب، ودھاتا، میری جنگ،مسٹر انڈیا، کرن ارجن،گھاتک، دامنی، پردیس،کوئلہ، بادشاہ، چائینا گیٹ، چاچی چار سو بیس،وراثت، تال،نائیک ، غدر ، مسکراہٹ ، نگینہ ، دل جلے سوداگر ،دیوانہ وغیرہ میں یادگار کردار نبھائے۔2005 ان کی زندگی کا آخری سال ثابت ہوا۔

وراثت، گھاتک،میری جنگ میں فلم فئیر ایوارڈز حاصل کر چکے۔

امریش پوری جیسے اداکار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ایسا شاندار اداکار شائد ہی بالی وڈ کو کبھی مل سکے۔

Lahore Times

Read Previous

Pakistani Young Leader addresses UN 75 Virtual Event

Read Next

Mahira’s Top 8 Looks

Leave a Reply

Your email address will not be published.